لب جو

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - نہر کا کنارا، ندی کا کنارا۔  چاند ہے پھول ہیں، لب جو ہے میرے پہلو میں دل نہیں تو ہے      ( ١٩٨٦ء، شعلۂ گل، ٢٣١ ) ١ - لب دریا، نہر کے کنارے۔  بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھے سنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھے      ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ١٨٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لب' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر فارسی اسم 'جو' لگانے سے مرکب اضافی 'لب جو' اردو میں بطور اسم اور گاہے بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٤ء کو "غنچۂ آرزو" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر